LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا عراق سے پروازوں پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

News Image
امریکہ کی عائد کردہ نئی پابندیوں کے پس منظر میں تہران نے بغداد پر زور دیا ہے کہ وہ پروازوں پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔ اس سفارتی پیش رفت سے دونوںمُلکوں کے باہمی تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
تہران: تہران حکومت نے پڑوسی ملک عراق سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان پروازوں پر عائد کردہ پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرے۔ یہ سفارتی تناؤ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک بالخصوص عراق کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات پر بھی پڑ رہے ہیں۔ تہران کے حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پابندیوں سے دونوں برادر ممالک کے عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔ ایران اور عراق کے درمیان قریبی تاریخی، مذہبی اور معاشی تعلقات قائم ہیں، اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے فضائی اور زمینی سفر کو آسان بنانے کے لیے کئی اہم معاہدے کیے تھے۔ تاہم، امریکی پابندیوں کے دباؤ کے بعد عراقی حکام کی طرف سے کچھ فضائی راستوں اور پروازوں پر قدغنیں لگائی گئی ہیں، جس پر ایرانی قیادت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بغداد کو واشنگٹن کے غیر منصفانہ دباؤ کے سامنے جھکنے سے گریز کرنا چاہیے اور دوطرفہ مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے کیونکہ اسے بیک وقت امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنا پڑ رہا ہے۔ عراقی حکومت اس معاملے پر اندرونی طور پر مشاورت کر رہی ہے تاکہ امریکی دباؤ سے بھی بچا جا سکے اور تہران کی ناراضگی کو بھی مول نہ لیا جائے۔ آنے والے دنوں میں دونوں دارالحکومتوں کے درمیان اس اہم مسئلے پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات متوقع ہیں، جن میں فضائی روابط کی بحالی اور تجارتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔