Pakistan
فوجی قیادت کا 9 مئی جیسے حالات پر فیصلہ کن کارروائی کا انتباہ
پاکستان کی عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نو مئی جیسے انتشار والے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے پوری قوت سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران اندرونی استحکام کو برقرار رکھنے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
راولپنڈی: پاکستان کی عسکری قیادت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک کے اندر کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی مقصد کے تحت نو مئی جیسے انتشار انگیز حالات دوبارہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فوج کے ترجمان ادارے اور ذرائع ابلاغ کے مطابق، پاک فوج کے سینیئر عسکری حکام نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی عناصر کی طرف سے ملک میں بدامنی پھیلانے یا قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی گئی تو اس سے انتہائی فیصلہ کن قوت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
یہ انتباہ ملک میں حالیہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے جہاں کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران اندرونی استحکام کو برقرار رکھنے اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کی سختی سے پاسداری کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ ملک کی سلامتی اور امن عامہ کو کسی بھی صورت سبوتاژ نہیں ہونے دیا جائے گا، اور ریاستی اداروں کے خلاف کسی بھی قسم کی شرپسندانہ کارروائیوں کا بھرپور اور قانونی جواب دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ، عسکری اجلاس میں خطے کی سکیورٹی اور خارجہ امور سے متعلق اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، پاک فوج نے خادم الحرمین الشریفین اور مکہ مکرمہ کے دفاعی معاہدے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت بھی کی گئی ہے۔ پاکستان نے علاقائی امن و استحکام اور برادر ممالک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
مجموعی طور پر، فوجی قیادت کے اس سخت پیغام کو ملکی سیاسی و سکیورٹی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریاست کی طرف سے اندرونی انتشار کو روکنے کے لیے واضح لکیر کھینچ دی گئی ہے تاکہ ملک کو کسی بھی غیر یقینی صورتحال اور اقتصادی و سیاسی بحران کی طرف دوبارہ دھکیلنے سے روکا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عسکری محاذ پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک میں امن اور آئین کی بالادستی ہی سب سے مقدم ہے۔