LIVE
Loading Breaking News...

فرانسیسی اسکولوں میں احتجاج اور پرتشدد جھڑپیں، سیکڑوں تعلیمی ادارے بند

News Image
فرانس بھر میں طلباء کے احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے جس کے باعث سیکڑوں اسکول بند کرنے پڑے ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال کے دوران پولیس اور طلباء کے درمیان جھڑپوں میں چالیس ہیڈ ماسٹرز بھی زخمی ہوئے ہیں۔
فرانس میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے شروع ہونے والے احتجاج نے انتہائی خطرناک اور پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے سیکڑوں ہائی اسکولز کو بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ سڑکوں پر نکلنے والے طلباء اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید جھڑپیں مسلسل جاری ہیں، جن میں اب تک چالیس سے زائد اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور اساتذہ زخمی ہو چکے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ملک کے امن و امان کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے اور انتظامیہ حالات کو قابو میں لانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق طلباء کا یہ غصہ اور احتجاج اب فرانس کے مختلف شہروں میں تیزی سے پھیل رہا ہے، جسے قابو کرنا مقامی پولیس کے لیے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے اسکولوں کے باہر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور ٹائر جلائے جا رہے ہیں، جبکہ پولیس نے بھی ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور طاقت کا استعمال کیا۔ اس صورتحال کو اربن وائلنس یا شہری تشدد کا نام دیا جا رہا ہے، جس نے پورے ملک میں ایک نیا سیاسی اور سماجی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے فرانسیسی وزیراعظم نے ایک ہنگامی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور اسکولوں میں امن و امان کی بحالی کے لیے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ والدین اور اساتذہ کی تنظیموں نے بھی اس تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔