LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر انتخابات: بلاول بھٹو کا مسلم لیگ ن پر دھاندلی کا الزام

News Image
آزاد جموں و کشمیر کے بلدیاتی اور انتخابی عمل کے دوسرے مرحلے کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن پر دھاندلی اور ووٹ چوری کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پہلے مرحلے کی شکایات پر کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے موجودہ مرحلے میں بھی بدنظمی اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت اتوار کی صبح سخت سکیورٹی حصار میں پولنگ کا آغاز ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ ووٹنگ کا عمل مظفرآباد ڈویژن کے نو حلقوں اور مہاجرین کی تمام بارہ نشستوں پر جاری ہے، جن کے لیے تین سو سے زائد امیدوار انتخابی میدان میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس دوران انتخابی عمل کے دوران مختلف مقامات پر کشیدگی، جھڑپوں اور الزامات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ دھاندلی کے ذریعے عوام کا مینڈیٹ چرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اتوار کے روز سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر پر ہونے والے مبینہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کے پیچھے مسلم لیگ ن کے غنڈہ عناصر کا ہاتھ ہے اور اسی حلقے میں ایک پی پی پی کارکن مشتاق شاہ جان کی بازی بھی ہار گیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا کہ چوہدری لطیف اکبر پر حملہ کرنے والوں اور پارٹی کارکن کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ ن بندوق، ڈنڈوں اور جبر کے بل بوتے پر کشمیری عوام کے ووٹ چوری کر رہی ہے جبکہ الیکشن کمیشن ان شکایات پر کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ادھر پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کو ایک تحریری شکایت بھی جمع کروائی ہے جس میں پارٹی امیدوار پر جسمانی حملے اور سکیورٹی کی غفلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اس ناخوشگوار واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور پولیس چیف کو ہدایت کی ہے کہ ذمہ داران کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ واضح رہے کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اے جے کے انتخابات کو تین مختلف مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں پہلا مرحلہ میرپور ڈویژن میں 27 جولائی کو منعقد ہوا تھا جبکہ تیسرا اور آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں طے شدہ ہے۔ دوسری جانب، میرپور کے پہلے مرحلے کے دوران ہونے والی جھڑپوں اور تنازعات کے بعد دونوں بڑی جماعتیں یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کر رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان قانونی حل تلاش کرنے کے لیے متعدد ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ تاہم بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے انتخابی عمل کی شفافیت سخت سوالیہ نشان کی زد میں آ چکی ہے اور پیپلز پارٹی کو تمام ایسے حلقوں میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے جہاں دھاندلی کے شواہد ملے ہیں۔