Entertainment
پاکستانی دستاویزی فلم ہینگنگ بائی اے وائر آسکرمیں شامل
پاکستان نے معروف ہدایت کار مو نقوی کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو 2027 کے اکیڈمی ایوارڈز کے لیے آفیشل انٹری کے طور پر منتخب کر لیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی دستاویزی فلم کو بین الاقوامی فیچر فلم کی دوڑ میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان نے سنیما کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے معروف فلم ساز مو نقوی کی سنسنی خیز اور حقیقت پر مبنی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو 2027 کے اکیڈمی ایوارڈز یعنی آسکرمیں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے کے لیے پاکستان کی سرکاری انٹری کے طور پر نامزد کر دیا ہے۔ فلمی حلقوں میں اس فیصلے کو انتہائی جوش و خروش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی ڈاکیومنٹری فلم کو آسکرمیں اس باوقار کیٹیگری کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔
یہ دستاویزی فلم اپنی نوعیت کی ایک منفرد کاوش ہے جو شائقین کو اپنی نشستوں سے جکڑے رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فلم کی کہانی اور اس کی پیشکش نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ناقدین کی توجہ حاصل کی ہے۔ مو نقوی کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں عصری موضوعات اور انسانی جذبے کی عکاسی کی گئی ہے، جو عالمی ناظرین کے لیے بھی اتنی ہی پُرکشش ہے جتنی کہ مقامی سطح پر۔ فلمی ججوں اور کمیٹی نے اس کے معیار کو دیکھتے ہوئے اسے دنیا کے سب سے بڑے فلمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے موزوں ترین قرار دیا ہے۔
پاکستان میں دستاویزی فلم سازی کے شعبے کے لیے یہ ایک بہت بڑی کامیابی مانی جا رہی ہے۔ ماضی میں بھی پاکستانی فلموں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان بنائی ہے لیکن آسکرمیں کسی ڈاکیومنٹری کا بطور آفیشل فیچر انٹری جانا پاکستانی سنیما کے بالغ نظری اور وسعت پذیر افق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس نامزدگی کے بعد فلم کے عملے اور پاکستانی فلمی شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ فلم اکیڈمی ایوارڈز کی شارٹ لسٹ میں بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔