LIVE
Loading Breaking News...

جولی این میک آلویئن قتل کیس: عدالتِ اپیل کا بڑا فیصلہ

News Image
برطانوی عدالتِ اپیل نے اپنے ظالم اور تشدد کرنے والے ساتھی کو قتل کرنے والی جولی این میک آلویئن کی قتل کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جیوری کو ملزمہ کے دفاعی حق سے متعلق درست ہدایات نہیں دی گئی تھیں۔
برطانیہ کی عدالتِ اپیل نے ایک اہم فیصلے میں جولی این میک آلویئن نامی خاتون کی جانب سے اپنے ظالم ساتھی جیمز جوزف کراسلے کے قتل کے الزام میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری کو ملزمہ کے دفاع یعنی 'کنٹرول کھونے' (loss of control) کے قانونی نکتہ پر درست انداز میں رہنمائی فراہم نہیں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے یہ عدالتی فیصلہ سامنے آیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد مقدمے کی کارروائی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ جولی این میک آلویئن کے وکیلوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی مؤکلہ کو طویل عرصے تک گھریلو تشدد اور جبر کا سامنا کرنا پڑا، اور جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، وہ انتہائی ذہنی دباؤ اور خوف کے عالم میں تھیں۔ اپیل کورٹ کے ججوں نے اس نکتے کا جائزہ لینے کے بعد تسلیم کیا کہ ٹرائل کورٹ میں جیوری کو اس قانونی دفاع کو سمجھانے میں خامی رہ گئی تھی۔ عدالتِ اپیل کے اس فیصلے نے قانون اور انصاف کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے، خاص طور پر ان مقدمات کے حوالے سے جن میں خواتین اپنے اوپر ہونے والے گھریلو تشدد کے خلاف ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب مقدمے کی آئندہ قانونی کارروائی اور نظرثانی کے لیے ضابطے کی کارروائی شروع کی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔