Entertainment
اسٹریے کڈز کا گرامی ایوارڈز سے بائیکاٹ، بی ٹی ایس کے نقش قدم پر
کورین میوزک انڈسٹری کے مشہور بینڈ اسٹریے کڈز نے گرامی ایوارڈز سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ گروپ اس نئے ایشین پاپ ایوارڈ کے تنازع کی وجہ سے بی ٹی ایس کے بعد بائیکاٹ کرنے والا دوسرا بڑا نام بن گیا ہے۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ کورین پاپ (کے پاپ) میوزک گروپ 'اسٹریے کڈز' نے بھی گرامی ایوارڈز سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس طرح یہ گروپ بی ٹی ایس کے بعد دوسرا بڑا کے پاپ ایکٹ بن گیا ہے جس نے گرامی ایوارڈز کی نامزدگیوں اور تقریب سے علحدگی اختیار کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ نئے 'بیسٹ ایشین پاپ' ایوارڈ کے زمرے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تنازعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس پر مداحوں اور موسیقی سے وابستہ شخصیات کی جانب سے بھی گہرے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
گرامی ایوارڈز کی انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں ایشین پاپ کے لیے ایک الگ کیٹیگری متعارف کروائی گئی تھی، جسے کے پاپ انڈسٹری اور اس کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کروڑوں مداحوں کی طرف سے پذیرائی نہیں ملی۔ کے پاپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے مخصوص زمرے کے پاپ موسیقی کو مرکزی دھارے سے الگ تھلگ کرنے کے مترادف ہیں، جبکہ کے پاپ کے فنکاروں نے پہلے ہی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔ اسٹریے کڈز کے اس اقدام نے ایک بار پھر موسیقی کی بڑی مغربی انڈسٹری اور ایشین فنکاروں کے درمیان موجود پالیسیوں پر سنجیدہ بحث مباحثہ چھیڑ دیا ہے۔
اسٹریے کڈز اور بی ٹی ایس جیسے عالمی سطح پر تسلیم شدہ گروپس کا اس طرح یکے بعد دیگرے بائیکاٹ کرنا اس بات کا غماز ہے کہ کے پاپ انڈسٹری اب اپنے حقوق اور عالمی پلیٹ فارمز پر منصفانہ نمائندگی کے لیے انتہائی سنجیدہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بائیکاٹ سے نہ صرف گرامی ایوارڈز کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ مستقبل میں مغربی ایوارڈ شوز کے لیے ایشین فنکاروں کو شامل کرنا بھی مزید چیلنجنگ ہو جائے گا۔ فی الحال اسٹریے کڈز کے حامی اس فیصلے پر اپنے پسندیدہ بینڈ کو بھرپور سراہ رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس بائیکاٹ کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔