LIVE
Loading Breaking News...

کارنیل یونیورسٹی مبینہ زیادتی کیس: طلبا کا احتجاج اور کیمپس میں کشیدگی

News Image
امریکہ کی معروف کارنیل یونیورسٹی میں سنہ 2024 کے مبینہ گروہی زیادتی کے واقعے کی تحقیقات دوبارہ سامنے آنے کے بعد کیمپس میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ طلبا نے انتظامیہ کے خلاف غصے کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ کی نامور کارنیل یونیورسٹی میں سنہ 2024 کے مبینہ گروہی زیادتی کے واقعے سے جڑے الزامات کے دوبارہ منظرِ عام پر آنے کے بعد کیمپس کا ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے۔ صورتحال سے دل گرفتہ اور غصے میں بھرے طلبا نے بڑی تعداد میں جمع ہو کر یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور تحقیقاتی عمل میں تاخیر پر کڑے سوالات اٹھائے ہیں۔ طلبا کا کہنا ہے کہ کیمپس کے اندر حفاظتی اقدامات اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے جو بے یقینی پائی جاتی ہے، اس نے طلب برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے متعدد طلبا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں کیمپس کے اندر کشیدگی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ مبینہ واقعے کے شواہد اور تفصیلات ایک بار پھر سامنے آنے کے بعد طلبا تنظیمیں سرگرم ہو چکی ہیں اور وہ متاثرہ فریق کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے مختلف احتجاجی مظاہرے کر رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو اس حساس معاملے پر مکمل شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ طلبہ بالخصوص طالبات خود کو کیمپس میں محفوظ تصور کر سکیں۔ یونیورسٹی کی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر انتظامیہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کو یقینی بنائے۔ طلبا نے خبردار کیا ہے کہ جب تک انہیں انصاف کی فراہمی اور مجرموں کے احتساب کے حوالے سے عملی اقدامات نظر نہیں آتے، ان کا احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کے سنگین معاملات کے حل میں تاخیر نہ صرف طلبا میں عدم تحفظ کا احساس بڑھاتی ہے بلکہ تعلیمی ماحول پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔