Politics
مودی کے الیکشن چیف کے خلاف بھارت میں نئی احتجاجی تحریک کا آغاز
بھارت میں نوجوانوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی اور دنیا کے سب سے بڑے انتخابات کی نگرانی کرنے والے اعلیٰ بیوروکریٹ کے خلاف نئی سڑکوں پر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ تحریک ملک کی سیاسی فضا میں ایک نیا موڑ لے کر سامنے آئی ہے جس کا ہدف انتخابی نظام اور اس کے کرتا دھرتا ہیں۔
بھارت میں ایک بار پھر نوجوانوں کی احتجاجی تحریکیں سڑکوں پر واپس آ گئی ہیں اور اس بار ان کا براہ راست نشانہ وزیراعظم نریندر مودی کے انتہائی معتمد اور اہم ترین بیوروکریٹ ہیں جو دنیا کے سب سے بڑے جمہوری انتخابات کی نگرانی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اس نئی سیاسی ہلچل نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر گرما گرمی پیدا کر دی ہے اور اپوزیشن حلقوں کی جانب سے بھی اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تحریک نوجوان طبقے میں بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس تحریک کو مقامی سطح پر مختلف نام دیے جا رہے ہیں جن میں ’لال بیگ‘ تحریک بھی شامل ہے، جو حکومتی حلقوں اور انتخابی مشینری کے خلاف عوامی غصے کی عکاسی کرتی ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ ترین انتظامی عہدوں پر بیٹھے افراد کا کڑے محاسبے سے گزرنا لازمی ہے۔ انہوں نے موجودہ الیکشن چیف کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے اور مطالبات پیش کیے ہیں کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔
دوسری جانب، حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور متعلقہ اداروں نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان مظاہروں کو سیاسی طور پر محرک اور مخالفین کی سازش قرار دیا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ انتخابی کمیشن ایک خود مختار اور آئینی ادارہ ہے جو اپنے تمام فرائض قانون کے دائرہ کار میں رہ کر انجام دے رہا ہے۔ اس طرح کے احتجاج ملک کے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی ایک ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس تحریک کے مزید پھیلنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں کیونکہ اپوزیشن جماعتیں بھی نوجوانوں کے ان مطالبات کو اپنے پلیٹ فارم سے اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف مودی حکومت کے لیے ایک سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہے بلکہ آنے والے انتخابی منظر نامے پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی پنڈت اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ احتجاجی لہر حکومتی پالیسیوں میں کسی بڑی تبدیلی کا باعث بنے گی یا نہیں۔