World
کارنیل یونیورسٹی زیادتی کیس: نیویارک کے گورنر کا بڑا اقدام
نیویارک کے گورنر نے کارنیل یونیورسٹی میں پیش آنے والے مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی پراسیکیوٹر مقرر کر دیا ہے۔ متاثرہ طالبہ اور مقامی رہنماؤں کی جانب سے اس واقعے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
نیویارک کی ریاستی حکومت نے کارنیل یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک انتہائی حساس جنسی زیادتی کے مبینہ واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک خصوصی پراسیکیوٹر تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ متاثرہ فریق کو انصاف ملے اور اس پورے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جا سکیں۔ گورنر نیویارک نے اپنے حالیہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ سنہ 2024 کے دوران پیش آنے والے جنسی تشدد کے الزامات سے جڑا ہوا ہے، جن کے حوالے سے حال ہی میں قانونی کارروائیاں بھی شروع کی گئی ہیں۔ مبینہ طور پر متاثرہ طالبہ نے کیمپس پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں انتہائی پختگی کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ پر بھی شدید دباؤ بڑھ گیا ہے اور طلباء کی طرف سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں ای Ithaca ٹاؤن ہال کے اندر ایک تقریب کے دوران ممبرِ کانگریس الیگزینڈ्रिया اوکاسیو کارٹیز نے بھی کارنیل یونیورسٹی کے اندر موجود مبینہ طور پر زیادتی کے کلچر کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک مقامی لا سوٹ بھی دائر کیا گیا ہے جس میں یونیورسٹی کے انتظامی امور اور حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
اس سنگین واقعے کے بعد نیویارک کے گورنر نے قانونی خامیوں کو دور کرنے اور اس نوعیت کے جرائم کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خصوصی پراسیکیوٹر کی تعیناتی سے تحقیقات کے عمل میں تیزی آئے گی اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ یونیورسٹی کے کیمپس میں طلباء کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی نئے اصولوں پر غور شروع ہو گیا ہے۔