LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا اور یوکرین میں جنگی قیدیوں پر تنازع اور شمالی کوریا کا کردار

News Image
جنوبی کوریا اور یوکرین کے درمیان جنگی قیدیوں کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سیول کو خدشہ ہے کہ اس تنازع سے شمالی کوریا کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات اور خطے کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔
جنوبی کوریا اور یوکرین کے درمیان جنگی قیدیوں کے تنازع پر کشیدگی خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں سیول نے کیف حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ اگر اس معاملے پر باضابطہ طور پر معافی نہ مانگی گئی تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ سؤل کے اس شدید ردعمل کی اصل وجہ شمالی کوریا کے ساتھ اس کے پہلے سے کشیدہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کے بارے میں گہرے خدشات ہیں۔ شمالی کوریا کی جانب سے روس اور یوکرین جنگ میں بڑھتی ہوئی شمولیت اور اس کے نتیجے میں علاقائی حرکیات میں آنے والی تبدیلیوں نے جنوبی کوریا کے پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان اس قیدی تنازع نے سفارتی محاذ پر نئی الجھنیں پیدا کر دی ہیں۔ جنوبی کوریا کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں سفارتی آداب کو نظر انداز کرنا دونوں ممالک کے باہمی تعاون اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سیول کا موقف ہے کہ یوکرین کی طرف سے اس غیر ذمہ دارانہ رویے پر فوری وضاحت اور تلافی کی جانی چاہیے تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید خرابی سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب، کیف اور سیول کے درمیان سفارتی ذرائع سے رابطے جاری ہیں تاکہ اس نازک معاملے کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جا سکے، تاہم اب تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکامی کا سامنا رہا ہے۔ اس پورے تنازع نے عالمی سطح پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کس طرح یوکرین کی جنگ ایشیا پیسیفک خطے کے ممالک خصوصاً جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے مابین دیرینہ کشیدگی کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کی پیش رفت دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت متعین کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہوگی کیونکہ جنوبی کوریا اپنی قومی سلامتی اور شمالی کوریا کے اقدامات کے حوالے سے انتہائی حساس موقف رکھتا ہے۔