World
مکّہ دفاعی معاہدہ کمیٹی کا اجلاس، سعودی عرب پر حوثی حملوں پر غور
وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ مکّہ دفاعی معاہدے کی کمیٹی سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کے تناظر میں آئندہ ہفتے ہنگامی مذاکرات کرے گی۔ اس معاہدے میں نئے اراکین کی شمولیت اس وقت تک روکی گئی ہے جب تک یہ مکمل طور پر فعال نہیں ہو جاتا۔
وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ مکّہ دفاعی معاہدے سے وابستہ کمیٹی کا اہم اجلاس آئندہ ہفتے منعقد ہوگا جس میں سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حوثی حملوں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا جبکہ حوثیوں کے اقدامات کو خطے میں عدم استحکام قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان خطے میں ابھرنے والی نئی علاقائی حقیقتوں اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران سعودی عرب کی فضائی حدود اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی روک تھام کے لیے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ علاوہ ازیں، اس دفاعی معاہدے کے حوالے سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ فی الحال نئے ممالک کی شمولیت کی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اس وقت تک اپنی ابتدائی مراحل میں ہے جب تک یہ تکنیکی اور عملی طور پر مکمل طور پر فعال نہیں ہو جاتا، جس میں تقریباََ ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس دوران موجودہ فریقین کے مابین رابطوں کو مزید مؤثر بنانے اور دفاعی تعاون کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری چیلنجز کے پیش نظر اس اجلاس کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، اور عالمی برادری کی نظریں بھی اس اہم سفارتی و عسکری بیٹھک پر مرکوز ہیں۔