World
بن گویر کا مسجد الاقصی پر دھاوا، عرب دنیا کی مذمت
اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے سینکڑوں صیہونی آباد کاروں کے ہمراہ مسجد الاقصی کے کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا ہے۔ اس اشتعال انگیز کارروائی کے بعد عرب اور اسلامی ممالک سمیت عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے سیکڑوں صیہونی آباد کاروں کے ہمراہ مسجد الاقصی کے احاطے میں دھاوا بول دیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب یہودی تعطیلات کا سیزن جاری ہے اور اس دوران گیارہ ہزار چار سو سے زائد اسرائیلی قابضین کی جانب سے مسجد الاقصی کی بے حرمتی کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جنہیں باقاعدہ ریاستی سرپرستی حاصل تھی۔
اس اشتعال انگیز اقدام کے بعد عرب اور اسلامی اداروں نے دنیا بھر کے پچیس سے زائد عالمی رہنماؤں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ مسجد الاقصی کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب، مقبوضہ بیت المقدس اور اردگرد کے علاقوں سے مسلمانوں کو جمعہ کے اجتماعات کے دوران مسجد الاقصی میں بھرپور شرکت کرنے اور وہاں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کی کال دی گئی ہے تاکہ صیہونی عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔
ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد الاقصی کے اندر اسرائیلی اقدامات خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اشتعال انگیز کارروائیاں مشرق وسطیٰ کی پہلے سے نازک صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہیں اور اس سے بڑے پیمانے پر مذہبی تصادم کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔