LIVE
Loading Breaking News...

سیکنڈ ہینڈ سی پی یو خریدتے وقت یہ خطرہ جان لیں

News Image
ایک گیمر کی جانب سے سیکنڈ ہینڈ سی پی یو خریدنے کا حیرت انگیز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ہارڈ ویئر آئی ڈی بین کی وجہ سے اسے نیا سسٹم خریدنے کے باوجود مقبول گیم ویلورنٹ کھیلنے سے روک دیا گیا۔ اس واقعے نے استعمال شدہ کمپیوٹر پارٹس خریدنے کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں سیکنڈ ہینڈ اشیاء خریدنا عام بات ہے تاکہ پیسے بچائے جا سکیں، لیکن حال ہی میں ایک ایسا انمٹ اور انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے گیمنگ کمیونیکیشن کو چونکا دیا ہے۔ پی سی ورلڈ (PCWorld) کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک شوقیہ گیمر نے سستا سمجھ کر ایک استعمال شدہ سنٹرل پروسیسنگ یونٹ یعنی سی پی یو خریدا، لیکن جب اس نے اپنے سسٹم پر معروف آن لائن گیم ویلورنٹ (Valorant) کھیلنے کی کوشش کی تو وہ ناکام رہا۔ تحقیقات کے بعد انکشاف ہوا کہ اس سی پی یو کو اس کے سابقہ مالک کی جانب سے دھوکہ دہی یا چیٹنگ کی پاداش میں ویلورنٹ کے اینٹی چیٹ سسٹم کی جانب سے پہلے ہی ہارڈ ویئر آئی ڈی بین (HWID Ban) کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہارڈ ویئر بین کسی بھی صارف کے لیے انتہائی سخت سزا مانی جاتی ہے کیونکہ یہ عام سافٹ ویئر بینز کی طرح صرف آئی ڈی یا اکاؤنٹ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ کمپیوٹر کے بنیادی ہارڈ ویئر کے اجزاء سے منسلک ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نیا خریدار اس سی پی یو کو اپنے مدر بورڈ اور دیگر سسٹمز کے ساتھ جوڑتا ہے، تو گیم کا سیکیورٹی سسٹم اسے وہی مجرمانہ شناخت سمجھ لیتا ہے جو کہ پچھلے مالک کی تھی۔ اس صورتحال میں خریدار کی طرف سے نیا اکاؤنٹ بنانے یا ونڈوز ری انسٹال کرنے کے باوجود گیم تک رسائی ممکن نہیں ہوتی کیونکہ بین ہارڈ ویئر کے اندر ہی رجسٹرڈ ہوتا ہے۔ سائبر نیوز (Cybernews) نے بھی اس واقعے پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گیمنگ کے شوقین افراد کو سیکنڈ ہینڈ پروسیسرز، مدر بورڈز یا دیگر قیمتی پارٹس خریدتے وقت انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔ آن لائن مارکیٹ پلیسز پر خرید و فروخت کرتے وقت یہ جاننا ناممکن ہوتا ہے کہ سابقہ مالک نے اس ہارڈ ویئر کا استعمال کس طرح کیا ہے اور آیا اس پر کسی قسم کی پابندی عائد ہے یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز گیمنگ مارکیٹ میں سیکنڈ ہینڈ اشیاء کے اعتماد کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں اور خریداروں کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ ذہنی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ٹیک ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ سیکنڈ ہینڈ ہارڈ ویئر خریدنے سے پہلے اس کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے یا ممکنہ طور پر قابل اعتماد ذرائع سے ہی خریداری کی جائے۔ ویلورنٹ جیسے مقبول گیمز کے سیکیورٹی پروٹوکولز اتنے سخت ہیں کہ وہ ہارڈ ویئر کی سطح پر نظر رکھتے ہیں، اس لیے ذرا سا بھی رسک پورے سسٹم کو گیمنگ کے قابل نہیں چھوڑتا۔ گیمرز کے لیے یہ ایک اہم سبق ہے کہ سستے داموں پر پرزے خریدتے وقت وہ ہارڈ ویئر کی ہسٹری کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں تاکہ اس قسم کی غیر متوقع پابندیوں سے بچا جا سکے۔