LIVE
Loading Breaking News...

سپेन کے سبتہ بارڈر پر تارکین وطن کا المیہ، 72 ہلاک

News Image
سپेन کے خودمختار علاقے سبتہ میں تارکینِ وطن کی بڑی تعداد کے داخلے کی کوشش کے دوران بھگدڑ مچنے اور پرتشدد واقعات میں کم از کم 72 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس دلخراش واقعے نے ایک بار پھر تارکینِ وطن کے بحران اور سرحدی سکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سپेन کے خودمختار شمالی افریقی علاقے سبتہ میں تارکینِ وطن کے ایک بڑے ہجوم کی جانب سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران پیش آنے والے خوفناک واقعے میں کم از کم 72 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام اور ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سینکڑوں افراد نے ایک ساتھ باڑ پھلانگ کر سپین میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں شدید بھگدڑ مچ گئی اور حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ہجوم کے بے قابو ہونے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مڈبھیڑ کے دوران کئی افراد کچلے گئے جبکہ بعض افراد کو دیگر جان لیوا حادثات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہلاک ہونے والوں میں مختلف افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے نوجوان شامل ہیں جو بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ کا رخ کر رہے تھے۔ اس المناک واقعے کے بعد مقامی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور لاوارث لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تارکینِ وطن کے ساتھ انسانی بنیادوں پر سلوک کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔ دوسری جانب، ہسپانوی حکام نے سرحد پر سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دنیا بھر میں تارکینِ وطن کے بحران کی سنگین نوعیت کو ظاہر کرتا ہے، جس کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر پائیدار حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ غریب ممالک کے شہریوں کو خطرناک سمندری اور زمینی راستے اختیار کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔