World
امریکی مجرمہ کرسٹا پائیک پھانسی کی ناکامی کے بعد وینٹیلیٹر پر
امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کی منتظر مجرمہ کرسٹا پائیک کو پھانسی دینے کی کوشش کے دوران طبیعت بگڑنے پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تشویشناک حالت میں وینٹیلیٹر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
امریکی ریاست ٹینیسی سے تعلق رکھنے والی سزائے موت کی مجرمہ کرسٹا پائیک پھانسی دیے جانے کی کوشش کے دوران شدید طبیعت خراب ہونے کے بعد ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ ان کے قانونی نمائندوں اور وکلاء نے جمعرات کی رات کو جاری کردہ اپنے بیانات میں تصدیق کی ہے کہ پائیک کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور وہ اس وقت نیشویل کے ایک مقامی ہسپتال میں وینٹیلیٹر پر زندگی کی بازی ہارنے یا جیتنے کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب حکام کی جانب سے مقررہ طریقہ کار کے مطابق ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ تاہم، اس عمل کے دوران اچانک صحت سے متعلق شدید پیچیدگیاں سامنے آئیں، جن کے بعد فوری طور پر جیل کے اندر طبی امداد فراہم کی گئی اور پھر انہیں ہنگامی بنیادوں پر شہر کے بڑے ہسپتال منتقل کرنا پڑا جہاں ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
کرسٹا پائیک کا شمار امریکہ کی انتہائی معروف مجرموں میں ہوتا ہے جنہیں سنگین جرائم کے پاداش میں عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ان کے وکلاء کی جانب سے اس واقعے کے بعد قانونی اور طبی امور پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ انسانی حقوق اور قانونی حلقوں میں بھی اس صورتحال پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
فی الحال ہسپتال کے حکام اور محکمہ جیل خانہ جات کی جانب سے مجرمہ کی موجودہ طبی حالت کے حوالے سے انتہائی سخت سکیورٹی اور رازداری برتی جا رہی ہے۔ تاہم وکلاء نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی رات تک وہ ہوش میں نہیں تھیں اور ڈاکٹروں کی زیر نگرانی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹیلیٹر پر موجود ہیں۔ اس پورے واقعے نے ایک بار پھر سزائے موت کے طریقۂ کار اور اس سے جڑے قانونی و اخلاقی پہلوؤں کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔