LIVE
Loading Breaking News...

کارنیل یونیورسٹی زیادتی کیس اور نیویارک کے گورنر کا بیان

News Image
نیویارک کے گورنر نے کہا ہے کہ کارنیل یونیورسٹی میں پیش آنے والے مبینہ زیادتی کے واقعے میں متاثرہ طالبہ کو انتظامیہ کی جانب سے نظر انداز کیا گیا۔ یہ واقعہ 2024 میں پیش آیا تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
نیویارک کے گورنر نے کارنیل یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک انتہائی حساس مبینہ زیادتی کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے حکام نے متاثرہ خاتون کو مایوس کیا اور بروقت اقدامات نہیں کیے۔ اس معاملے نے تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔ متاثرہ خاتون، جنہیں قانونی طور پر 'جین ڈو' کا نام دیا گیا ہے، کا الزام ہے کہ انہیں 2024 میں یونیورسٹی کی ایک فرٹرنٹی ہاؤس میں سات طلباء کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سنگین الزام کے سامنے آنے کے بعد کارنیل یونیورسٹی کی انتظامیہ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ انہوں نے اس واقعے پر فوری اور سخت کارروائی کیوں نہیں کی۔ نیویارک کے گورنر کے بیان کے بعد اس کیس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور حکام کی جانب سے اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا یونیورسٹی کے عہدیداروں نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی یا پھر غفلت برتی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ واقعے کے وقت کون کون سے اقدامات کیے گئے تھے اور متاثرہ طالبہ کی شکایات پر کس نوعیت کا ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت ضابطے نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ طلباء بالخصوص طالبات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی واقعے کی صورت میں فوری انصاف فراہم کیا جا سکے۔ کارنیل یونیورسٹی کی انتظامیہ اس معاملے میں دباؤ کا شکار ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس تحقیقات کے نتیجے میں اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔