World
شیفیلڈ کا سابق مذہبی رہنما خواتین کی عصمت دری کے الزام میں مجرم قرار
برطانیہ میں شیفیلڈ کے نائن او کلاک سروس موومنٹ کے سابق رہنما کو تیرہ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کے متعدد الزامات میں مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اب انہیں کڑی سزا اور قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں نائن او کلاک سروس نامی سابقہ مذہبی تحریک کے رہنما کو متعدد خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کے سنگین الزامات کے تحت مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ عدالت میں ہونے والی طویل کارروائی اور شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اس شخص نے اپنے اثر و رسوخ اور مذہبی حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے متاثرہ خواتین کو نشانہ بنایا۔ یہ مقدمہ برطانوی معاشرے اور انصاف کے نظام میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں متاثرہ خواتین نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کی۔ استغاثہ کے مطابق مجرم نے طویل عرصے تک اپنے عہدے اور تحریک کی آڑ میں خواتین پر دباؤ ڈالا اور انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا۔ عدالت کی جانب سے ان تمام الزامات پر گہرائی سے غور کیا گیا اور گواہوں کے بیانات اور طبی شواہد کی روشنی میں فیصلہ صادر کیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد مجرم کو طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کا اعلان عدالت آنے والے دنوں میں کرے گی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے کیسز میں انصاف کا ملنا معاشرے میں ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ متاثرہ خواتین نے بھی اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے دیگر افراد کو بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ ملے گا۔