World
ایرانی میڈیا کی ٹرمپ کے دعوے پر سخت تردید
ایرانی میڈیا ذرائع نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں سابق امریکی صدر نے کہا تھا کہ تہران نے واشنگٹن سے رابطہ کر کے حملے نہ کرنے کی التجا کی تھی۔ ایرانی حکام نے اس بیان کو سیاسی نوعیت کا جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایرانی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سراسر بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران نے واشنگٹن سے رابطہ کر کے فوجی کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس طرح کے بیانات کا مقصد محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور اندرونی امریکی سیاست میں فائدہ اٹھانا ہے۔ تہران کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے تحت امریکہ کے سامنے ایسی کوئی بھیک نہیں مانگی اور ملک کی دفاعی پوزیشن بالکل واضح ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک حالیہ انتخابی یا سیاسی گفتگو کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے دورِ حکومت یا ان کی پالیسیوں کے خوف کی وجہ سے ایرانی حکام نے مبینہ طور پر امریکہ سے رابطہ کیا تھا اور یہ التجا کی تھی کہ ان پر بڑا حملہ نہ کیا جائے۔ اس دعوے کے سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں اور مبصرین اس بیان کے حقائق جاننے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی میڈیا نے ان تمام رپورٹس اور بیانات کو فوری طور پر دباؤ کی نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ایرانی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً اس قسم کے مبالغہ آرائی پر مبنی بیانات دیے جاتے ہیں تاکہ خطے میں اپنی پوزیشن کو طاقتور دکھایا جا سکے۔ تہران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی ممکنہ امریکی یا اسرائیلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ایرانی میڈیا کی اس سخت تردید کے بعد دونوںممالک کے درمیان جاری کشیدہ لفظی جنگ میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مبصرین کے مطابق، موجودہ خطے کی نازک صورتحال کے تناظر میں اس قسم کے دعوے اور ان کی تردیدیں دونوںجانب کے سیاسی بیانیے کا حصہ ہیں۔ تہران کا موقف ہے کہ اس کے دفاعی نظام اور عسکری قیادت کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سرنگوں نہیں ہوں گے اور اس طرح کے دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔ ایرانی عوام اور حکومت کی جانب سے اس معاملے پر یک زبان ہو کر ملکی دفاع اور خودمختاری کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران واشنگٹن کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔