World
مشرق وسطیٰ میں تیل کی رسد بحال، اہم وجوہات سامنے آئیں
ماہرین کے مطابق امریکی فوجی امداد، شٹل ٹینکرز کے استعمال اور آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی پائپ لائنوں کی بدولت مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں نمایاں بحالی ہوئی ہے۔ یہ تین اہم عوامل عالمی منڈی میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔
عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک بڑی خوشخبری یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد ایک بار پھر ایران کے ساتھ تنازع سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔ بین الاقوامی امور اور توانائی کے ماہرین نے اس بحالی کے پیچھے تین بنیادی وجوہات کی نشاندہی کی ہے جن کی بدولت خطے میں تیل کی ترسیل کے بحران پر قابو پایا جا سکا ہے۔ ان اقدامات نے نہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو استحکام بخشا ہے بلکہ خلیجی راستوں پر دباؤ بھی کم کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پہلی بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی بھرپور فوجی امداد اور سکیورٹی پروٹوکولز ہیں، جنہوں نے بحری جہازوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تحفظ فراہم کیا۔ اس سکیورٹی حصار کی وجہ سے بحری جہاز بلا خوف و خطر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے اور سپلائی چین میں تعطل کا شکار ہونے والے امور فوری طور پر بحال ہو گئے۔
دوسرا اہم عنصر شٹل ٹینکرز کا موثر استعمال اور آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والے پائپ لائن کے نظام کا فعال ہونا ہے۔ چونکہ آبنائے ہرمز کو بعض اوقات جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے خطرات لاحق ہوتے ہیں، اس لیے متبادل پائپ لائنز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل کو یقینی بنایا گیا۔ اس حکمت عملی نے پیداواری مراکز کو براہ راست محفوظ منڈیوں سے جوڑ دیا جس کے نتائج انتہائی مثبت نکلے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال بہتر ہو چکی ہے تاہم عالمی منڈی کے مستقبل کے استحکام کے لیے علاقائی امن ناگزیر ہے۔ ان متبادل راستوں اور حفاظتی انتظامات نے فی الحال خلیجی ممالک کو تیل کی برآمدات بلا تعطل جاری رکھنے کا موقع فراہم کر دیا ہے، جس سے عالمی معیشت کو بھی بڑی ریلیف ملی ہے۔