LIVE
Loading Breaking News...

سامی ابو شحادہ کا اسرائیلی انتخابات سے دستبرداری کا اعلان

News Image
فلسطینی سیاستدان سامی ابو شحادہ نے آئندہ اسرائیلی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے سیاسی حکمت عملی کے تحت یہ قدم اٹھایا ہے جو خطے کی سیاست میں اہمیت کا حامل ہے۔
تل ابیب: اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں عرب اقلیت کی نمائندگی کرنے والے نمایاں فلسطینی سیاستدان اور جماعت کے رہنما سامی ابو شحادہ نے آئندہ انتخابات سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے کو سیاسی حلقوں میں انتہائی حیرت سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق سامی ابو شحادہ نے یہ فیصلہ اپنی سیاسی جماعت اور حامیوں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ انتخابی ماحول اور قوانین فلسطینی اور عرب اقلیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے سازگار نہیں ہیں، اس لیے انتخابات میں حصہ لینے کے بجائے وہ اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ ان کی جماعت عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی چاہے وہ پارلیمنٹ کے اندر ہوں یا باہر۔ اس فیصلے سے اسرائیلی سیاسی منظر نامے بالخصوص عرب پارٹیوں کے اتحاد پر براہ راست اثرات پڑنے کا امکان ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ عرب ووٹوں کا تقسیم ہونا یا کسی بڑی تبدیلی کا رونما ہونا اسرائیل کی اگلی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ سامی ابو شحادہ کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جو اسرائیل کے اندر فلسطینیوں کے شہری اور سیاسی حقوق کے لیے سخت مؤقف رکھتے ہیں اور پارلیمنٹ کے اندر بھی کھل کر اپنے مطالبات پیش کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا اندازہ لگایا جائے گا کہ اس دستبرداری سے عرب ووٹرز کا رجحان کس طرف جاتا ہے اور آیا دیگر عرب سیاسی جماعتیں بھی اس نوعیت کے کسی فیصلے پر غور کرتی ہیں یا نہیں۔ سامی ابو شحادہ کے اس قدم نے ایک بار پھر اسرائیلی معاشرے میں بسنے والے عرب شہریوں کے سیاسی مستقبل اور ان کی حکمت عملی پر ایک طویل بحث کو جنم دے دیا ہے جو کہ آنے والے انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔