LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی سپریم کورٹ کا فیصلہ، عرب پارٹیوں کی انتخابی بحالی

News Image
اسرائیلی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں الیکشن پینل کی جانب سے عرب سیاسی جماعتوں پر عائد پابندی کو مسترد کرتے ہوئے انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے دو عرب فہرستوں اور یہودی رکن پارلیمنٹ عوفر کاسیف کو بھی بحال کر دیا ہے۔
اسرائیل کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی اور اہم فیصلے میں الیکشن پینل کی جانب سے عرب سیاسی جماعتوں پر لگائی جانے والی پابندی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں عرب فہرستیں اب آئندہ انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے سکیں گی۔ عدالت عظمیٰ کے اس اقدام کو جمہوری اصولوں کی جیت اور ملک میں اقلیتوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ انتخابی عمل سے کسی بھی سیاسی قوت کو بلاجواز باہر رکھنا جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے تحت دو اہم عرب فہرستوں کے ساتھ ساتھ یہودی رکن پارلیمنٹ عوفر کاسیف کو بھی بحال کر دیا گیا ہے جنہیں اس سے قبل انتخابی پینل کی طرف سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ عوفر کاسیف کی بحالی کو بائیں بازو کی سیاست اور حکومتی پالیسیوں کے ناقدین کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، بلاد پارٹی کے رہنما کی طرف سے شدید سیاسی دباؤ کے بعد اپنی نامزدگی واپس لینے کا بھی اعلان کیا گیا، جس سے اس انتخابی کشمکش میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ اسرائیلی الیکشن پینل نے اس سے قبل ان جماعتوں اور امیدواروں پر ریاست مخالف سرگرمیوں یا آئین کے خلاف ورزی جیسے الزامات عائد کرتے ہوئے پابندی لگانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، سپریم کورٹ نے ان الزامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے نچلے ادوار کے فیصلوں کو پلٹ دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیلی سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کرے گا اور عرب نژاد اسرائیلی شہریوں کو پارلیمنٹ میں اپنی آواز بلند کرنے کا مزید موقع فراہم کرے گا۔