Business
امریکی معیشت: ستمبر میں ملازمتوں میں کمی اور بے روزگاری میں اضافہ
محکمہ محنت کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں امریکی معیشت نے صرف انتیس ہزار نئی ملازمتیں شامل کیں۔ اس دوران مڈٹرم انتخابات سے قبل بے روزگاری کی شرح بڑھ کر چار اعشاریہ دو فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
امریکہ میں معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں محکمہ محنت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے مہینے میں معیشت میں صرف انتیس ہزار نئی ملازمتیں ہی شامل ہو سکیں۔ ماہرینِ معیشت کی جانب سے اس سست روی کو غیر متوقع اور تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل توقعات اس سے کہیں زیادہ بہتر روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی تھیں۔
نئی ملازمتوں میں اس شدید کمی کے براہ راست اثرات بے روزگاری کی شرح پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر چار اعشاریہ دو فیصد تک جا پہنچی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ایسے حساس وقت پر سامنے آئے ہیں جب ملک میں مڈٹرم انتخابات قریب آ رہے ہیں، اور معاشی صورتحال روایتی طور پر انتخابی مہمات میں ایک بڑا موضوع بنتی ہے۔
حکومت اور پالیسی ساز اداروں کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے کیونکہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ ملازمتوں کے مواقع کا کم ہونا عام شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس معاشی سست روی کے اثرات آئندہ انتخابات کے نتائج پر بھی پڑ سکتے ہیں، جہاں ووٹرز معاشی کارکردگی کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے مالیاتی منڈیوں میں بھی اس رپورٹ پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں اور معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر معیشت کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والے مہینوں میں معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف بے روزگاری پر قابو پانا مشکل ہوگا بلکہ مجموعی اقتصادی ترقی بھی متاثر ہوگی۔