World
یمن میں غذائی بحران: تین چوتھائی گھرانے بھوک کا شکار
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک نے یمن میں جاری تنازعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غذائی قلت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جنگ اور نقل مکانی کی وجہ سے خوراک کی فراہمی معطل ہو چکی ہے جس کے تباہ کن اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ডব্লিউ ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ یمن کے تنازع سے متاثرہ مختلف علاقوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے جہاں ہر چار میں سے تین خاندان شدید بھوک کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ جاری جنگ اور جھڑپوں کی وجہ سے ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ اس نقل مکانی اور سکیورٹی خدشات نے خوراک کی سپلائی لائنوں کو بھی یکسر منقطع کر دیا ہے۔ یمن میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے پہلے ہی اقتصادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تھا، اور اب تازہ ترین جھڑپوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق اس صورتحال کے یمن کے عام شہریوں اور خاص طور پر بچوں اور خواتین پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خوراک اور بنیادی ضروریات زندگی کی عدم دستیابی کی وجہ سے قحط جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔ عالمی برادری اور امدادی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ متاثرہ علاقوں تک فوری طور پر رسائی دی جائے تاکہ انسانی امداد بلا تعطل پہنچائی جا سکے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر مالی وسائل فراہم نہ کیے گئے اور جنگ کے ماحول میں بہتری نہ لائی گئی تو یمن میں غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد میں مزید خوفناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتائج خطے کے امن اور انسانی بقا کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔