Technology
جے کلیٹن امریکی مصنوعی ذہانت کے نئے سربراہ نامزد، ٹرمپ کا بڑا فیصلہ
رپورٹس کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جے کلیٹن کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے امور کا نیا 'زار' بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ ممکنہ تقرری ٹیکنالوجی کے تیزی سے فروغ پانے والے شعبے میں حکومتی مداخلت کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر سامنے آئی ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انٹیلی جنس کے معروف نام اور سابقہ عہدیدار جے کلیٹن کو ملک میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے امور کا نیا 'زار' مقرر کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ یہ ممکنہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ملک بھر میں تیزی سے ترقی کرنے والی جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرکاری ضابطہ کاری اور حکومتی نگرانی بڑھانے کے لیے مطالبات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس نئے دور میں ریاستی سطح پر مؤثر پالیسیاں بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
جے کلیٹن جو کہ ماضی میں بھی اہم انتظامی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں، اگر اس عہدے پر فائز ہوتے ہیں تو ان کے سامنے امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے ڈھانچے کو محفوظ بنانے اور اس کی ترقی کو منظم کرنے کے بڑے چیلنجز ہوں گے۔ موجودہ دور میں اے آئی ٹیکنالوجی نے نہ صرف کاروباری اور دفاعی شعبوں میں انقلاب برپا کر رکھا ہے بلکہ اس کے اخلاقی اور سکیورٹی سے جڑے خدشات بھی تیزی سے سر اٹھا رہے ہیں۔ حکومت اب اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اس شعبے کی ترقی کو اس طرح سے ریگولیٹ کیا جائے کہ قومی سلامتی کو بھی کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ممکنہ تقرری کو عالمی سطح پر بھی انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ امریکہ اور دیگر بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان ٹیکنالوجی بالادستی کی ایک غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے۔ اے آئی کے شعبے میں غلبہ حاصل کرنے کے لیے ریاست اور نجی اداروں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہو گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس باضابطہ تقرری کے بعد امریکی حکومت کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مزید سخت اور جامع پالیسیاں سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔