LIVE
Loading Breaking News...

اسپین پارلیمنٹ کا ہاؤسنگ فرمان مسترد، ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج

News Image
اسپین کی پارلیمنٹ نے ہاؤسنگ بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے دونوں فرامین کو مسترد کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے ہاؤسنگ مارکیٹ مزید سخت ہو جاتی، جبکہ ملک میں اس معاملے پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی جاری رہا۔
مڈرڈ: اسپین کی پارلیمنٹ نے ملک میں ہاؤسنگ کی استطاعت کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے لائے گئے اہم فرامین کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں ہاؤسنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور کرایوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے تھے۔ حکومتی جماعت کی جانب سے پیش کیے جانے والے ان دونوں فرامین کا مقصد شہریوں کو سستے مکانات کی فراہمی اور مارکیٹ میں استحکام لانا تھا، تاہم پارلیمنٹ میں حزب اختلاف اور دیگر ناقدین کی شدید مخالفت کے باعث یہ بل منظور نہ ہو سکے۔ ناقدین اور ماہرینِ معاشیات کا موقف تھا کہ حکومت کے تجویز کردہ یہ اقدامات ہاؤسنگ مارکیٹ کو مزید سخت اور غیر مستحکم بنا سکتے تھے، جس سے عام خریداروں اور کرایہ داروں کو ریلیف ملنے کے بجائے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس صورتحال نے حکومت کو ایک بڑے سیاسی چیلنج سے دوچار کر دیا ہے، کیونکہ اسپین میں مکانات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور کرائے عام عوام کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور عوام حکومت سے فوری اور موثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ان فرامین کی شکست کے بعد ملک میں سیاسی حلقوں اور ہاؤسنگ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی تنظیموں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت اپنی پالیسیوں کا دفاع کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف عوام اور اپوزیشن کا اصرار ہے کہ موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے زیادہ جامع، منصفانہ اور طویل مدتی لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کے بعد حکومت کو ہاؤسنگ پالیسی پر از سر نو غور کرنا ہوگا تاکہ عوامی غصے کو کم کیا جا سکے اور ملک میں بڑھتے ہوئے ہاؤسنگ بحران کا کوئی قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔