Politics
عمران خان کے حامیوں کا اسلام آباد کی طرف مارچ، پی ٹی آئی کے مطالبات اور تازہ ترین صورتحال
قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے دارالحکومت اسلام آباد کی طرف ایک بڑا مارچ شروع کر دیا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں یہ ریلی اسلام آباد کی جانب گامزن ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں اور رہنماؤں نے قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کے حق میں دارالحکومت اسلام آباد کی طرف ایک بڑا مارچ شروع کر دیا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں یہ قافلہ مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا اسلام آباد کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ راستے میں کارکنان کی بڑی تعداد اس کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے جس سے ملکی سیاسی صورتحال میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی، جس کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ان کا یہ مارچ پرامن لیکن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے انتہائی فیصلہ کن ہوگا۔ دوسری طرف، وفاقی وزراء نے اس مارچ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ دارالحکومت میں قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی آئی نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات کی ایک طویل فہرست رکھی ہے جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی، انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات اور آئینی حقوق کی بحالی شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، ان کا یہ احتجاج اور مارچ جاری رہے گا۔ اس صورتحال کے پیش نظر جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دستے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔