LIVE
Loading Breaking News...

کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا امکان، وفاقی حکومت کا غور

News Image
وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں سکیورٹی خدشات اور سیاسی کشیدگی کے پیش نظر آئینی اقدامات اور گورنر راج کے نفاذ پر غور کر رہی ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی رہنماؤں کے درمیان صوبائی صورتحال پر لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔
اسلام آباد اور پشاور کے درمیان سیاسی کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ممکنہ طور پر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے حوالے سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ ملک کے سیاسی منظر نامے پر پی ٹی آئی اور شہباز شریف کی زیر قیادت وفاقی حکومت کے درمیان محاذ آرائی میں شدت دیکھی جا رہی ہے، جس کے بعد صوبے کی موجودہ انتظامی اور سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرکز میں حکومتی حلقے صوبے کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے مختلف آئینی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر اس مسئلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک نظر انداز شدہ صوبہ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر فی الحال صوبے میں گورنر راج کے حق میں نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود سکیورٹی کے شدید خطرات بدستور موجود ہیں۔ دوسری جانب کے پی کے گورنر نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر صوبے کو بچانے اور امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ناگزیر ہوا تو آئینی اختیارات کے تحت ہنگامی حالات یا ایمرجنسی بھی نافذ کی جا سکتی ہے۔ اس صورتحال پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ مرکز اس صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے تیار تھا لیکن اس کے سیاسی و آئینی اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وفاق کے مابین یہ رسہ کشی آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ صوبائی عوام اور سیاسی پنڈت اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس سیاسی تنازع کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے، اس لیے تمام فریقین کو افہام و تفہیم سے کام لینا چاہیے۔