LIVE
Loading Breaking News...

کیوبا میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا، پانچ صوبے متاثر

News Image
کیوبا میں بجلی کا قومی نظام ایک بار پھر ناکارہ ہو جانے کی وجہ سے ملک کے پندرہ میں سے پانچ صوبے مکمل بلیک آؤٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوششیں جاری ہیں۔
کیوبا میں توانائی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جہاں ملک کا مرکزی پاور گرڈ فیل ہونے کے نتیجے میں پندرہ میں سے پانچ صوبے مکمل طور پر بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ اتوار کے روز سامنے آنے والی اس تازہ ترین خرابی نے کیوبا کے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جو پہلے ہی سے شدید معاشی چیلنجز اور توانائی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بجلی کی یہ بڑی خرابی ملک کے اہم حصوں میں پیش آئی جس سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ حکام اور بجلی کی ترسیل کے ذمہ دار اداروں نے فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ صوبوں میں گرڈ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کیوبا کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ انتہائی خستہ حال ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجوہات میں طویل عرصے سے جاری معاشی پابندیاں، فنڈز کی کمی اور پاور پلانٹس کی بروقت مرمت یا دیکھ بھال کا فقدان شامل ہیں۔ اس سے قبل بھی ملک کے مختلف حصوں میں گرڈ فیل ہونے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں جو ملک گیر پیمانے پر طویل بلیک آؤٹ کا سبب بنتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں اسپتالوں، پانی کی فراہمی کے نظام اور دیگر ضروری خدمات کو چلانے کے لیے متبادل جنریٹروں کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی بڑے انسانی بحران سے بچا جا سکے۔ عام شہریوں کو شدید گرمی اور بجلی کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے روزمرہ کے امور میں شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ حکومت اور متعلقہ محکمے تکنیکی خرابی کو دور کرنے میں مصروف ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ پورے ملک میں بجلی کی فراہمی کو مکمل طور پر بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ کیوبا کو درپیش یہ توانائی کے مسائل دراصل ملک کے فرسودہ معاشی اور تکنیکی نظام کی عکاسی کرتے ہیں جن کے حل کے لیے فوری اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ شہریوں میں بھی اس صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ بار بار بجلی کا غائب ہونا نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ عام آدمی کی زندگی کو بھی اجیرن بنا رہا ہے۔ حکام کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ جلد ہی صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا اور نظام کو بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔