World
سعودی اتحاد کا حوثیوں کا ریاض حملہ دعویٰ مسترد
سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والے عسکری اتحاد نے حوثیوں کی جانب سے دارالحکومت ریاض اور تیل کی تنصیبات پر حملے کے دعوے کو گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ یمنی حوثی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے میزائلوں اور ڈرونز سے آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والے عسکری اتحاد نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے دارالحکومت ریاض میں تیل کی تنصیبات پر حملے کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا ہے۔ عسکری اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حوثی گروپ کی جانب سے پھیلائی جانے والی یہ اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔
اس سے قبل یمنی حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ریاض اور خریس کے علاقوں میں سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر میزائلوں اور مسلح ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ریاض کے کچھ حصوں میں دھویں کے گہرے بادل دیکھے گئے جبکہ اتحادی افواج نے دشمن کے ایک میزائل کو فضا میں ناکارہ بنانے کی بھی تصدیق کی ہے جس کے ملبے سے ایک رہائشی کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی اور ایران سے جڑی جنگی صورتحال کے تناظر میں یہ حالیہ واقعہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سعودی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک کے شہریوں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھیں گے۔ عالمی برادری نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لائیں۔