LIVE
Loading Breaking News...

برازیل انتخابات: بولسونارو کی ممکنہ واپسی اور سیاسی منظرنامہ

News Image
برازیل کے صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے رہنما کی کامیابی کے بعد سیاسی صورتحال دلچسپ ہو گئی ہے۔ موجودہ صدر لولا ڈی سلوا اور بولسونارو کے حامیوں کے درمیان اب دوسرے مرحلے میں سخت مقابلے کی توقع ہے۔
برازیل کے سیاسی منظرنامے میں ایک بار پھر ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں تمام اشارے سابقہ دائیں بازو کی پالیسیوں کی واپسی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برازیل کے صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ انتہائی دلچسپ مقابلے کے بعد اختتام پذیر ہوا ہے اور اب انتخاب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ دائیں بازو کے رہنما فلاویو بولسونارو نے پہلے مرحلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے برتری حاصل کی ہے، جس نے سیاسی تجزیہ کاروں کو بھی دنگ کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ملک میں ایک بار پھر قدامت پسند سیاست کے احیا کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ دوسری جانب موجودہ صدر لولا ڈی سلوا کو انتخابات میں سخت حریف کا سامنا ہے۔ ابتدائی جائزوں اور پولز میں لولا کو معمولی برتری حاصل ضرور تھی، تاہم پہلے مرحلے کے نتائج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اب موجودہ پالیسیوں سے ہٹ کر تبدیلی چاہتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ برازیل کا معاشرہ اس وقت شدید نظریاتی تقسیم کا شکار ہے اور دونوں اہم دھڑے ملک کی معاشی اور سماجی سمت کے حوالے سے بالکل مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ انتخابات اب رن آف یعنی دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں دونوں امیدواروں کے درمیان فیصلہ کن جنگ لڑی جائے گی۔ فلاویو بولسونارو کی اس ابتدائی کامیابی نے قدامت پسند حامیوں میں نئی روح پھونک دی ہے اور وہ اپنے رہنما کی فتح کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔ آنے والے دنوں میں انتخابی مہم مزید تیز ہونے کا امکان ہے کیونکہ دونوں فریقین ووٹرز کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ برازیل کے یہ انتخابات نہ صرف ملکی سیاست بلکہ پورے لاطینی امریکہ کے خطے پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔