World
یمن حکومت کا حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا اعلان
یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد حوثی باغیوں کے قبضے سے تمام علاقوں کو واگزار کروانا اور ملک میں حکومتی رٹ بحال کرنا ہے۔
یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے ملک بھر سے حوثی باغیوں کا صفایا کرنے اور ان کے زیر قبضہ تمام علاقوں کو واپس لینے کے لیے ایک بڑے فوجی آپریشن کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جارحانہ فوجی اقدام کا مقصد ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو پسپا کرنا اور یمنی ریاست کی مکمل بحالی کو یقینی بنانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے فضائی حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ریاض اور صنعا میں سیاسی و عسکری ہلچل تیز ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے بھی اس عسکری مہم کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے اور یمنی حکومت کے شانہ بشانہ جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اتحادی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حوثی باغیوں کو تمام اسٹریٹجک علاقوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین پیش رفت سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم یمنی حکومت کے نزدیک ملک کی سالمیت اور آئینی اقتدار کی بحالی کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔
فوجی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس آپریشن میں زمینی اور فضائی دونوں ذرائع کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ حوثی باغیوں کی رسد اور دفاعی لائنوں کو کمزور کیا جا سکے۔ خطے کے مبصرین کا ماننا ہے کہ اس بڑی کارروائی کے نتائج یمن کے مستقبل کی سیاست اور سکیورٹی کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔