LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران جنگ اور خطے کی تازہ ترین صورتحال

News Image
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے جہاں یمن میں لڑائی تیز ہونے کے ساتھ تہران نے کسی بھی امریکی حملے کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب خطے میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے بعد خطے کے ممالک سمیت پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یمن کے محاذ پر لڑائی میں شدید تیزی آ گئی ہے جس نے خطے کے سکیورٹی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے دوران ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ امریکی حملے یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ تہران کی جانب سے یہ واضح پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوںممالک کے درمیان عسکری محاذ آرائی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ دریں اثنا، امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی خطے میں موجود اپنے دستوں اور فوجیوں کے لیے اہم اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جنگی صورتحال کے پیش نظر امریکی فوجیوں کے کمبیٹ پے میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مشکل حالات میں فرائض انجام دینے والوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان بھی رپورٹ ہوا ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کو اور بڑھا دیا ہے۔ خطے میں موجود خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں بھی مقیم شہریوں کے لیے نئی ایڈوائزریز جاری کی گئی ہیں جن میں انہیں بدلتی ہوئی صورتحال سے باخبر رہنے اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ خلیجی پریس کے مطابق، امارات میں مقیم افراد کو موجودہ جنگی حالات اور اس کے اثرات کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹس فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ بین الاقوامی برادری اس بحران کے خاتمے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہے، تاہم زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عسکری تناؤ فوری طور پر کم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو فوری طور پر سفارتی مذاکرات کے ذریعے نہ روکا گیا تو اس کے اثرات پوری عالمی معیشت اور خطے کے امن پر انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔