Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، مشرق وسطیٰ کی برآمدات میں اضافہ
مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں نمایاں اضافے اور جی سیون ممالک کی جانب سے ذخائر جاری کرنے کے فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تیل کی رسد جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں متوقع اضافہ اور جی سیون ممالک کی جانب سے اپنے اسٹریٹجک ذخائر کو مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ ہے۔ مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق، خطے سے تیل کی برآمدات نے اب ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگ سے پہلے کی سطح کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں سے تیل کی ترسیل بلا تعطل جاری ہے اور مارکیٹ میں اس وقت طلب کے مقابلے میں رسد بہتر ہوئی ہے۔ کے پیلر اور دیگر ڈیٹا فراہم کرنے والے اداروں کے اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے پروڈیوسرز نے اپنی پیداوار اور برآمدی صلاحیت کو بحال کر لیا ہے، جو کہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈی کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ دوسری طرف، جی سیون ممالک نے مارکیٹ کو مزید استحکام دینے اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اپنے ذخائر کو جاری کرنے کا اشارہ دیا ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑا اور خریداروں کے لیے تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی آ سکتی ہے، تاہم توانائی کی مارکیٹ اب بھی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے حوالے سے حساس ہے۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ آئندہ دنوں میں قیمتوں کے ممکنہ اتار چڑھاؤ کا اندازہ لگایا جا سکے اور توانائی کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے.