LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا پاور سیکٹر اور بجلی کے بلوں کا بحران

News Image
پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور گردشی قرضوں نے صارفین اور معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ ماہرین توانائی کے شعبے کی ریگولیٹری کارکردگی اور صلاحیت کے چارجز پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت توانائی کا شعبہ انتہائی کڑے دور سے گزر رہا ہے جہاں عام صارفین سے لے کر صنعتی مراکز تک سبھی بجلی کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ حالیہ میڈیا رپورٹس اور تجزیوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک کے پاور سیکٹر کی ریگولیٹری کارکردگی کو جانچنے کا وقت آ گیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کہاں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف گھریلو صارفین کے ماہانہ بجٹ کو درہم برہم کر دیا ہے بلکہ ملکی صنعت کی مسابقت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ توانائی کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے بغیر اس بحران سے نکلنا ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب، پاکستان میں گردشی قرضے کا مسئلہ بدستور ایک ناسور کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے، اور اب یہ بحث بھی شروع ہو چکی ہے کہ آیا ہم اس مسئلے کو ناپنے کے لیے درست پیمانے استعمال بھی کر رہے ہیں یا نہیں۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، گردشی قرضے کے اصل اسباب کو سمجھے بغیر اس کا پائیدار حل تلاش کرنا ناممکن ہے۔ اس ضمن میں ٹرانسمیشن کے مسائل اور چھپے ہوئے کیپیسٹی چارجز بھی ایک بڑا فیکٹر ہیں جو بجلی کی پیداواری لاگت کو مصنوعی طور پر بڑھا دیتے ہیں۔ جب تک ترسیلی نظام میں بہتری نہیں لائی جاتی اور صارفین پر بلاجواز چارجز کا بوجھ ڈالا جاتا رہتا ہے، اس وقت تک توانائی کے شعبے میں استحکام لانا ایک خواب ہی رہے گا۔ موجودہ صورتحال میں حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر ایک جامع لائحہ عمل تیار کریں جو توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور خودمختاری کی طرف لے جا سکے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی اور مقامی ماہرین کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے پاور سیکٹر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔ بجلی کے بلوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیداواری لاگت میں کمی، چوری کی روک تھام اور ٹرانسمیشن کے نقصانات کو کم کرنا بنیادی ترجیحات ہونی چاہئیں، تاکہ ملک کی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔