Entertainment
سلویسٹر اسٹالون راکی کی آسکر کامیابی پر کیوں اداس تھے؟
ہالی ووڈ کے معروف اداکار سلویسٹر اسٹالون نے انکشاف کیا ہے کہ 1977 میں ان کی فلم 'راکی' کو بہترین فلم کا آسکر ایوارڈ ملنے پر انہیں خوشی کے بجائے شدید افسوس اور اداسی کا احساس ہوا تھا۔ اس یادگار موقع پر ان کے والدین کی عدم شرکت اور ذاتی زندگی کے دکھوں نے اس کامیابی کی خوشی کو ماند کر دیا تھا۔
ہالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار اور فلم ساز سلویسٹر اسٹالون نے ایک انکشاف میں بتایا ہے کہ 1977 میں جب ان کی شاہکار فلم 'راکی' نے بہترین فلم کا اکیڈمی ایوارڈ (آسکر) جیتا تھا، تو اس لمحے انہیں خوشی یا مسرت کے بجائے شدید اداسی کا احساس ہوا تھا۔ دنیا بھر میں اس فلم کی کامیابی کو ایک تاریخ ساز کارنامہ سمجھا گیا، لیکن سلویسٹر اسٹالون کے لیے یہ تجربہ توقع کے بالکل برعکس تھا۔
اس تقریب کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اسٹالون نے بتایا کہ جب 'راکی' کو اس وقت کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا گیا تو ان کے دل میں جشن منانے کے بجائے ایک عجیب سا خالی پن اور اداسی چھا گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کامیابی کو اپنے اندر جذب کرنے سے قاصر تھے اور انہیں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ سب کسی مذاق کی طرح ہے، کیونکہ ان کی ذاتی زندگی اس دوران مشکلات کا شکار تھی۔
ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ اس تقریب میں سلویسٹر اسٹالون کے والدین نے شرکت نہیں کی تھی۔ اداکار کے مطابق، اس تاریخی کامیابی کے موقع پر اپنے قریبی رشتہ داروں اور والدین کی موجودگی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں تنہائی اور ناممکن حد تک اکیلا پن محسوس ہوا، جس نے اس بڑی خوشی کو غم میں بدل دیا۔ والدین کی عدم توجہی اور عدم موجودگی نے انہیں اندرونی طور پر توڑ دیا تھا۔
فلم 'راکی' نے نہ صرف باکس آفس پر ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی بلکہ سنیما کی تاریخ میں اپنا ایک مستقل مقام بنایا۔ آج بھی جب اس فلم کے اعزازات کا ذکر کیا جاتا ہے، تو سلویسٹر اسٹالون کے یہ انکشافات مداحوں کو حیران کر دیتے ہیں کہ کس طرح ایک بڑی کامیابی کے پیچھے بھی ذاتی زندگی کے گہرے دکھ اور تنہائی کی داستانیں چھپی ہو سکتی ہیں۔