LIVE
Loading Breaking News...

پولانسکی پر اسرائیل میں پابندی اور صیونزم کی قرارداد

News Image
برائٹن میں ہونے والی ایک کانفرنس میں صیونزم کو نسل پرستی قرار دینے والی قرارداد پاس ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے نتیجے میں پولانسکی پر اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
برطانیہ کے شہر برائٹن میں منعقد ہونے والی ایک اہم سیاسی کانفرنس کے دوران ایک متنازع قرارداد منظور کیے جانے کے بعد سیاسی میدان میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس قرارداد میں 'صیونزم کو نسل پرستی' قرار دیا گیا ہے، جس پر اندرونی حلقوں اور اعلیٰ قیادت کے درمیان شدید اختلافات نے جنم لیا ہے۔ کانفرنس کے شرکاء اور پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کے مابین اس معاملے پر آراء منقسم نظر آئیں، جہاں ایک طرف اس سخت مؤقف کی حمایت کی گئی وہیں دوسری طرف اسے سیاسی نقصان دہ قرار دیا گیا۔ اس تمام تنازع کے بعد اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اس تحریک اور قرارداد سے جڑے اہم سیاسی کردار پولانسکی پر اسرائیل میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات اور سفارتی حلقوں میں اس اقدام کو انتہائی اہم اور دور رس نتائج کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے پہلے ہی کشیدہ سیاسی ماحول میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید سیاسی جماعتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ پارٹی کے اندرونی معاملات اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ اس قرارداد اور اس کے ردعمل میں ہونے والے فیصلوں نے قیادت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ناقدین اس صورتحال کو ایک بحران سے تعبیر کر رہے ہیں جبکہ حامی اسے اپنے اصولی مؤقف کی جیت قرار دے رہے ہیں۔ اس پوری صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے اور مختلف ممالک کے سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی کا اندازہ لگایا جا سکے۔