LIVE
Loading Breaking News...

ملازمت کے انٹرویو میں موجودہ تنخواہ کے سوال سے کیسے بچیں

News Image
ملازمت کے انٹرویو کے دوران اکثر امیدواروں سے ان کی موجودہ تنخواہ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے جس کا جواب دینے سے قانونی طور پر گریز کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا مقصد اکثر کم تنخواہ پر ملازم رکھنا ہوتا ہے لہذا اس پر بات کرنے کے متبادل طریقے اپنانے چاہئیں۔
نوکری کے حصول کے لیے دیے جانے والے انٹرویو کے دوران امیدواروں کو اکثر ایسے کٹھن اور پیچیدہ سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو براہ راست ان کی ذاتی مالیاتی زندگی سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سب سے عام اور متنازع سوال امیدوار کی موجودہ تنخواہ کے بارے میں ہوتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور انسانی وسائل کے ماہرین کے مطابق، انٹرویو کے دوران اس سوال کا جواب دینا ہر بار لازمی نہیں ہے اور امیدواروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس نوعیت کے ذاتی اور حساس مالیاتی سوالات کا جواب دینے سے گریز کریں۔ بਹੁت سی جگہوں پر آجر اس سوال کا استعمال امیدوار کی سابقہ آمدنی کا اندازہ لگا کر اسے نئی نوکری میں کم سے کم معاوضے پر راضی کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ موجودہ تنخواہ بتانے کے بجائے امیدواروں کو چاہیے کہ وہ اپنی مارکیٹ ویلیو، مطلوبہ عہدے کی نوعیت اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر تنخواہ کے توقعات کا اظہار کریں۔ اس سے امیدوار ایک مضبوط پوزیشن میں رہتا ہے اور آجر پر اس کی قابلیت کا مثبت تاثر پڑتا ہے۔ اگر انٹرویو کے دوران کوئی شخص یا ایچ آر مینیجر بار بار موجودہ تنخواہ کے بارے میں اصرار کرے، تو امیدوار کو انتہائی شائستہ مگر دوٹوک انداز میں اس سوال کو ٹالنا چاہیے۔ اس کے لیے یہ طریقہ اپنایا جا سکتا ہے کہ امیدوار اپنی پچھلی تنخواہ کا ذکر کرنے کے بجائے اس نئے عہدے اور پوزیشن کے لیے طے شدہ مالیاتی بجٹ یا مارکیٹ کے عام معیار کے بارے میں استفسار کرے۔ اس طرح انٹرویو کا رخ ذاتی مالیات سے ہٹ کر پیشہ ورانه صلاحیتوں اور کام کی قدر پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ آخر میں، یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کئی ممالک اور ریاستوں میں اب قانوناً آجروں کے لیے یہ پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ امیدواروں سے ان کی پچھلی تنخواہ کے بارے میں دریافت نہیں کر سکتے۔ مقصد یہ ہے کہ صنف یا پس منظر کی بنیاد پر ہونے والی تنخواہوں کی تفریق کو ختم کیا جا سکے۔ لہذا نوکری کے متلاشی افراد کو اپنے حقوق کا علم ہونا چاہیے اور انٹرویو کی تیاری کے دوران ان پہلوؤں پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ مالیاتی طور پر نقصان سے بچ سکیں۔