Politics
حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات ناکام، ملک میں احتجاجی مظاہروں کا خدشہ
حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہو کر ناکام ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے سابق وزیر اعظم عمران خان تک رسائی اور خیبر پختونخوا کی انسداد دہشت گردی پالیسی پر حکومت کے غیر لچکدار رویے کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
اسلام آباد میں حکومت اور حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان سیاسی بحران کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور بھی کسی مثبت نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔ طویل اور طاق فضا میں ہونے والی ان بات چیت کے بعد دونوں اطراف سے ڈیڈلاک کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں ایک بار پھر سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی لہر کا خدشہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت کا رویہ انتہائی غیر لچکدار اور یکطرفہ تھا جس کی وجہ سے بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق، مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سابق وزیراعظم عمران خان تک رسائی نہ دینا اور خیبر پختونخوا صوبے کی انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر حکومت کا رویہ شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارٹی بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی، اور حکومت کی جانب سے اس اہم ترین نکتے پر لچک نہ دکھانا ہی مذاکرات کے خاتمے کا سبب بنا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت سنجیدہ ماحول فراہم کرنے کے بجائے اپنے یکطرفہ ایجنڈے کو مسلط کرنا چاہتی تھی۔
دوسری جانب حکومتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کے لیے تیار تھے، لیکن اپوزیشن کے مطالبات حد سے تجاوز کر رہے تھے۔ مذاکرات کی اس ناکامی کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہروں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال سے ملکی معیشت اور سیاسی استحکام کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، کیونکہ دونوں فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عوامی سطح پر بھی بدامنی کا باعث بن سکتی ہے۔
عوام اور سیاسی حلقوں کی نظریں اب آئندہ کے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں کہ آیا پی ٹی آئی اپنی احتجاجی تحریک کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہے یا کوئی اور سیاسی راستہ نکالا جاتا ہے۔ اس بحران نے ایک بار پھر ملک میں جمہوریت اور باہمی مکالمے کی فضا کو سوالیہ نشان کے سامنے کھڑا کر دیا ہے، جہاں دونوں اہم سیاسی قوتیں کسی بھی قسم کے سیاسی سمجھوتتے پر رضمند نظر نہیں آ رہیں۔