LIVE
Loading Breaking News...

فرانسیسی اسکولوں کے احتجاج میں جھڑپ، طالبعلم زخمی

News Image
فرانس میں ہائی اسکول کے طلبہ کے جاری احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان پرتشدد مظاہروں اور جھڑپوں کے نتیجے میں ایک نوعمر طالبعلم کا ہاتھ اڑ گیا ہے جبکہ سیکڑوں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔
فرانس میں ہائی اسکول کے طلبہ کے ملک گیر احتجاج کے دوران حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں ایک نوعمر طالبعلم کا ہاتھ اڑنے کا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طلبہ نے حکومت مخالف اور تعلیمی اصلاحات کے نفاذ کے لیے سڑکوں پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور پولیس کے ساتھ ان کی مڈبھیڑ ہو گئی، جس نے بعد میں پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ فرانسیسی حکام اور میڈیا کے مطابق اس تصادم کے دوران ہونے والے دھماکے یا پولیس کی کارروائی میں نوعمر طالبعلم شدید زخمی ہوا اور اس کا ہاتھ جسم سے الگ ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوامی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب فرانس بھر میں طلبہ کا یہ احتجاج شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کے پیش نظر ملک بھر میں سیکڑوں ہائی اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیرس کے پولیس چیف کا کہنا ہے کہ طلبہ کی یہ احتجاجی تحریک اب کنٹرول سے باہر ہوتی جا رہی ہے، جس سے امن و امان کی صورتحال شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ پیر کے روز سے چار سو سے زائد اسکولوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت بند رکھا جائے گا کیونکہ مزید مظاہروں کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔ طلبہ اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر موجود ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس کے دستے صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے متحرک ہیں۔ اس سنگین صورتحال نے فرانسیسی حکومت کے لیے ایک بڑا بحران پیدا کر دیا ہے جہاں ایک طرف تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے تو دوسری طرف نوجوانوں میں پولیس کے مبینہ تشدد کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو سیاسی اور فہم و فراست کے ساتھ نہ سنبھالا گیا تو یہ مظاہرے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے فرانسیسی حکومت پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔