LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ نے اپنے بی ون بمبار طیارے کیوں واپس بلائے؟ اہم خبر

News Image
امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اپنے اہم بی ون بمبار طیاروں کو ایک غیر ملکی بیس سے واپس امریکہ منتقل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات اور حکمت عملی کے تحت انتہائی عجلت میں کیا گیا۔
امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے اتوار کے روز باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس نے اپنے اہم ترین جنگی اور بمبار طیاروں کو ایک اہم فوجی اڈے سے ہنگامی بنیادوں پر واپس امریکہ بلا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ طیارے جو کہ مبینہ طور پر بی ون (B-1) بمبار طیاروں کی شکل میں تقریباً ایک درجن کی تعداد میں تھے، متعلقہ بیس پر تعینات تھے۔ ان طیاروں کی واپسی کا عمل اس قدر اچانک اور تیز رفتار تھا کہ دفاعی تجزیہ کاروں اور مبصرین میں اس کی وجوہات پر گہرے چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ پینٹاگون کے حکام کی جانب سے فوری طور پر اس اچانک منتقلی کی کوئی تفصیلی تکنیکی وجہ یا خطرے کی نوعیت تو بیان نہیں کی گئی، تاہم اسے معمول کی تبدیلی کی بجائے ایک خاص حکمت عملی کے تحت اٹھایا گیا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ممکنہ حفاظتی خطرات کے پیش نظر واشنگٹن نے یہ فیصلہ کیا۔ ان طاقتور طیاروں کا اپنے ہوم سٹیشنز پر واپس جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ عسکری قیادت کسی بھی قسم کے ناگہانی حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی پوزیشن کا از سر نو جائزہ لے رہی ہے۔ یہ بی ون بمبار طیارے طویل فاصلے تک مار کرنے اور بھاری مقدار میں ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت کی وجہ سے امریکی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ اس طرح اچانک اور بغیر کسی طویل پیشگی نوٹس کے ان کا انخلا عالمی سطح پر خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ دفاعی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ طیاروں کی واپسی کے بعد اب ان کی مینٹیننس اور آئندہ کی تعیناتی کے حوالے سے امریکی سرزمین پر ہی فیصلے کیے جائیں گے، جب کہ پینٹاگون نے اس پورے معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔