Technology
پینٹاگون کا اینتھروپک کے اے آئی ٹولز کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ
امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک کے ٹولز کا استعمال روک دیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے حفاظتی اقدامات ہٹانے سے انکار کے بعد اسے سپلائی چین رسک قرار دیا گیا تھا۔
امریکہ کے محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کے لیے جانی جانے والی معروف فرم اینتھروپک کے تمام ٹولز کا استعمال فوری طور پر بند کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ دونوں فریقین کے درمیان اہم پالیسی اور تکنیکی معاملات پر تنازع کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے دفاعی شعبے میں اے آئی کے استعمال پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پینٹاگون نے رواں سال فروری میں اس کمپنی کو ایک باضابطہ 'سپلائی چین رسک' کے طور پر نامزد کر دیا تھا، جس کے بعد یہ سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
اس تنازع کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اینتھروپک نے اپنے اے آئی سسٹمز اور ٹولز سے حفاظتی پروٹوکولز اور سیفٹی گارڈ ریلز کو ہٹانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ اس کے اے آئی ماڈلز کی سلامتی اور اخلاقی حدود کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے، جبکہ دفاعی حکام مبینہ طور پر اپنی مخصوصOperational ضروریات کے تحت ان میں نرمی یا تبدیلی چاہتے تھے۔ فریقین کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں جب کوئی درمیانی راستہ نہ نکل سکا تو دفاعی ادارے نے اس فرم کی مصنوعات پر پابندی کا سخت فیصلہ کیا۔
ماہرین کے مطابق دفاعی اداروں اور اے آئی ریسرچ فرمز کے درمیان اس قسم کے تنازعات مستقبل میں مزید بڑھ سکتے ہیں کیونکہ جدید ٹیکنالوجی جنگی اور دفاعی حکمت عملیوں کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، اس پیش رفت کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ آیا کمرشل اے آئی فرمز کو ملٹری مقاصد کے لیے اپنے اصولوں میں نرمی کرنی چاہیے یا نہیں۔ اینتھروپک کے اس مؤقف کو جہاں انسانی حقوق اور اے آئی سیفٹی کے حامیوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے، وہیں دفاعی حلقوں میں اسے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔