World
بحیرہ اسود میں روسی حملہ، مکئی بردار جہاز کا کپتان ہلاک
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بحیرہ اسود میں ترکی کی ملکیت والے بحری جہاز پر روسی حملے کی سخت مذمت کی ہے جو مکئی لے کر جا رہا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز کا کپتان ہلاک جبکہ عملے کے گیارہ ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بحیرہ اسود کے قریب پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے پر شدید غصے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ روس کی جانب سے مبینہ طور پر ایک ایسے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا جو ترکی کی ملکیت تھا اور اس میں غلے کی ترسیل کے تحت مکئی لدی ہوئی تھی۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور بین الاقوامی سطح پر بحیرہ اسود میں سکیورٹی کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ حملے کی تصدیق کرتے ہوئے یوکرینی حکام نے بتایا ہے کہ اس خطرناک کارروائی کے دوران جہاز کا کپتان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ تاہم امدادی کارروائیوں کے دوران عملے کے دیگر گیارہ ارکان کو زندہ بچانے میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس بحری جہاز پر حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور خوراک کی ترسیل کے تحفظ کے حوالے سے پہلے ہی شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور یوکرین کے رہنماؤں نے اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی کو ہر صورت محفوظ بنایا جانا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے حملے عالمی سطح پر خوراک کے بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں کیونکہ یوکرین سے زرعی اجناس کی برآمدات دنیا بھر کے لاکھوں افراد کے لیے خوراک کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں۔ ترکی جو کہ اس خطے میں امن اور تجارتی راستوں کی بحالی کے لیے کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے، اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔