World
فلائی دبئی پائلٹ تل ابیب حملہ منصوبہ، اہم خبر
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلائی دبئی کے ایک عمانی کو پائلٹ نے تل ابیب ایئرپورٹ یا کسی عمارت پر طیارہ کریش کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق یہ ملزم ایک اکیلا انتہا پسند یعنی لون وولف تھا جس نے اس خطرناک سازش کی تیاری کی تھی۔
بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آنے والی سنسنی خیز رپورٹس کے مطابق فضائی کمپنی فلائی دبئی کے ایک عمانی کو پائلٹ نے مبینہ طور پر تل ابیب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے یا کسی اہم عمارت پر طیارہ تباہ کرنے کا سنگین منصوبہ بنایا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع اور انٹیلی جنس رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ شخص مبینہ طور پر ایک 'لون وولف' انتہا پسند تھا جو اکیلے ہی اس خطرناک کارروائی کو انجام دینے کے درپے تھا۔ ایوی ایشن انڈسٹری اور سیکیورٹی حلقوں میں اس خبر کے سامنے آنے کے بعد شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ پائلٹس کی سیکیورٹی اور ان کی ذہنی صحت کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ ایئرلائن انتظامیہ اور متعلقہ سیکیورٹی ادارے اس پورے واقعے کی انتہائی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ اس سازش کے تانے بانے کہاں تک جڑے ہوئے تھے اور ملزم کے عزائم کیا تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، بروقت معلومات ملنے یا شک پڑنے پر اس ممکنہ خطرے کو ٹالنے کے لیے اقدامات کیے گئے، تاہم اس واقعے نے کمرشل ایوی ایشن کی سیکیورٹی پروٹوکولز پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایئرلائنز کے لیے اپنے عملے بالخصوص پائلٹس کی کڑی اسکریننگ اور نفسیاتی جانچ پڑتال کا عمل اب پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مسافروں کی جان و مال کو اس نوعیت کے کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ دنیا بھر میں اس واقعے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور فضائی مسافروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے نئے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ ایوی ایشن سیکیورٹی کو مزید فول پروف بنایا جائے تاکہ کوئی بھی فرد اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس قسم کی بڑی تباہی نہ پھیلا سکے۔