LIVE
Loading Breaking News...

کنزرویٹو پلان اور نئے گھروں کی قیمتوں میں کمی کا دعوی

News Image
بی بی سی ویریفائی نے شیڈو چانسلر کے اس منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا ہے جس میں تعمیراتی اخراجات گھٹانے کے لیے کچھ قواعد و ضوابط میں نرمی کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان تبدیلیوں سے واقعی نئے مکانات کی قیمتوں میں پچاس ہزار پاؤنڈ تک کی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
برطانوی سیاست میں ان دنوں مکانات کی قیمتیں اور تعمیراتی اخراجات ایک اہم بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے ایک ایسا منصوبہ سامنے آیا ہے جس کے تحت تعمیراتی قوانین میں کچھ نرمی لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد نئے گھروں کی تیاری میں آنے والے اخراجات کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے تاکہ عام شہریوں کے لیے گھر خریدنا آسان بنایا جا سکے۔ اسی تناظر میں بی بی سی ویریفائی نے اس دعوے کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی ہے کہ آیا واقعی اس حکمت عملی سے نئے گھر پچاس ہزار پاؤنڈ تک سستے ہو سکتے ہیں۔ شیڈو چانسلر کی جانب سے پیش کردہ اس خیال میں بلڈنگ ریگولیشنز اور مختلف قسم کی سرخ فیتے کی روایت کو کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی صنعت کو سخت قوانین کی وجہ سے اکثر تاخیر اور اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ان قواعد میں معقول نرمی کی جائے تو تعمیراتی کمپنیاں کم لاگت میں منصوبے مکمل کر سکیں گی۔ تاہم اس حوالے سے معاشی ماہرین اور ہاؤسنگ سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ کچھ حلقے حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات پر سمجھوتہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ بی بی سی کی تجزیاتی ٹیم نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ آیا پچاس ہزار پاؤنڈ کی تخفیف حقیقت پسندانہ ہے یا نہیں۔ زمین کی قیمتیں، خام مال کی لاگت اور مزدوروں کی اجرت جیسے عوامل اس پوری مساوات میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ محض ضوابط میں تبدیلی سے اتنی بڑی بچت حاصل کرنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، اس بحث نے برطانوی ہاؤسنگ مارکیٹ میں ایک نئی ہلچل ضرور مچا دی ہے اور عامتہ الناس میں سستے گھروں کی فراہمی کے وعدوں پر از سر نو غور کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے مزید نقائص اور فوائد سامنے آنے کی توقع ہے۔ سیاسی حریف اس منصوبے کو محض ایک انتخابی نعرہ قرار دے رہے ہیں جبکہ کنزرویٹو رہنما اسے ہاؤسنگ بحران کا موثر حل بتا رہے ہیں۔ حتمی طور پر یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ تجاویز قانون کی شکل اختیار کرتی ہیں اور عام خریداروں کو اس سے کتنا حقیقی فائدہ پہنچتا ہے۔