LIVE
Loading Breaking News...

مانچستر سٹی اور مانچستر یونائیٹڈ کے مالی معاملات کا موازنہ

News Image
مانچستر سٹی کے مالکان کو کلب میں سرمایہ کاری کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے جس نے فٹ بال کی دنیا میں بحث چھیڑ دی ہے۔ دوسری طرف مانچستر یونائیٹڈ کے شائقین کلب سے رقم نکالے جانے کے معاملے پر شدید مایوسی کا شکار ہیں۔
انگلش پریمیئر لیگ کے دو بڑے کلبوں مانچستر سٹی اور مانچستر یونائیٹڈ کے مالیاتی امور اس وقت فٹ بال کی دنیا میں شدید بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں مانچستر سٹی کے مالکان کو اپنے کلب میں بڑی مقدار میں نقدی یا فنڈز انجیکٹ کرنے کے معاملے میں قصوروار پایا گیا ہے، جس نے فٹ بال کے مالیاتی قواعد و ضوابط پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح دولت مند مالکان کلبوں کو مالی طور پر مضبوط بنانے کے لیے قاعدے توڑنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، مانچستر یونائیٹڈ کے شائقین اور مبصرین کا معاملہ بالکل مختلف اور تشویشناک ہے۔ اولڈ ٹریفورڈ کے حامی اس بات پر سخت برہم ہیں کہ ان کے کلب سے باہر کی طرف سرمایہ کاری یا منافع کی صورت میں رقم نکالی جا رہی ہے۔ مانچستر یونائیٹڈ کے مداح طویل عرصے سے کلب کی موجودہ انتظامیہ اور مالکان کی مالیاتی پالیسیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق کلب کو مالی طور پر سپورٹ کرنے کے بجائے اس سے مالی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ دونوں کلبوں کی یہ متضاد کہانیاں فٹ بال کی جدید دنیا میں مالکان کے کردار اور کلب کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتی ہیں۔ ایک طرف جہاں مانچستر سٹی کے مالکان پر کلب کے اندر پیسہ جھونکنے کا الزام ہے، وہیں مانچستر یونائیٹڈ سے باہر کی طرف پیسے کے بہاؤ نے مداحوں کو سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعات آنے والے دنوں میں انگلش فٹ بال کے مالی ضابطوں میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔