World
گرین پارٹی میں صیہونزم مخالف قرارداد پر تنازعہ، یہودی چیئر کا استعفیٰ کا امکان
برطانوی گرین پارٹی میں 'صہیونزم نسل پرستی ہے' نامی متنازعہ قرارداد پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے یہودی چیئر کے پارٹی چھوڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس قرارداد میں تاریخی فلسطین کے تمام رقبے پر ایک واحد جمہوری فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی ہے۔
برطانوی گرین پارٹی کی اندرونی سیاست میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب جماعت کے اندر پیش کی جانے والی ایک متنازعہ قرارداد پر سینئر رہنماؤں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تاریخی فلسطین کے پورے خطے میں ایک واحد اور جمہوری فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس نے پارٹی کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس پوری صورتحال کے دوران، گرین پارٹی کی یہودی ونگ کی چیئر نے واضح کیا ہے کہ وہ اس متنازعہ لائحہ عمل اور قرارداد کی وجہ سے جماعت کو خیرباد کہہ سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ قرارداد پارٹی کے اندر مختلف دھڑوں کے مابین شدید بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف جہاں اس اقدام کو فلسطین کے دیرینہ تنازعے پر ایک اہم موقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اسے جماعت کے اندر یہود دشمنی اور اسرائیل مخالف جذبے کے طور پر بھی جانچا جا رہا ہے۔ اس کشمکش نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، جہاں بعض رہنما اس قرارداد کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں جبکہ کچھ اعتدال پسند رہنما اس کے ممکنہ منفی سیاسی اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
پارٹی کی یہودی چیئر کے ممکنہ استعفیٰ کی خبر نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس قسم کے نعرے اور قراردادیں پارٹی کے اندر اقلیتوں اور بالخصوص یہودی اراکین کے لیے ماحول کو غیر محفوظ بنا رہی ہیں۔ گرین پارٹی کی قیادت اس نازک صورتحال کو سنبھالنے اور تمام فریقین کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم تاحال اس بحران کا کوئی حتمی حل سامنے نہیں آ سکا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ آنے والے دنوں میں پارٹی کے اندرونی ڈھانچے اور اس کی عوامی مقبولیت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔