Business
پانچ سالہ مارگیج ریٹ 6 فیصد تک جا پہنچا، مالیاتی منڈی کا جائزہ
قرض دینے والے اداروں کو بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے فکسڈ ریٹ مارگیج کی لاگت میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال مکان خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے مالی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔
نئے فکسڈ ریٹ مارگیج کی لاگت میں حالیہ ہفتوں کے دوران مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ قرض دینے والے اداروں کو درپیش بلند اخراجات ہیں۔ مالیاتی منڈی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پانچ سالہ مارگیج کی اوسط شرح سود تین سال میں پہلی بار چھ فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس تبدیلی نے ہاؤسنگ مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے اور ماہرین اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
بینکوں اور مالیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ فنڈنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی معاشی دباؤ کی وجہ سے وہ اپنے قرضوں کی شرح سود کو بڑھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جب سے معاشی اشاریوں میں تبدیلیاں آئی ہیں، تب سے فکسڈ ریٹ لونز مہنگے ہو چکے ہیں۔ اس اضافے سے ان خریداروں کو براہ راست نقصان پہنچ رہا ہے جو اپنے لیے نئے گھر خریدنے یا پرانے قرضوں کو ری فنانس کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
ماہرینِ اقتصادیات کا ماننا ہے کہ مارگیج کی شرح میں اس اضافے سے پراپرٹی مارکیٹ میں طلب سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔ جو لوگ نیا گھر لینے کا سوچ رہے تھے، انہیں اب ماہانہ قسطوں کی مد میں زیادہ ادائیگی کرنا ہوگی، جس سے ان کے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ اگرچہ شرح سود میں یہ اضافہ وقتی ہو سکتا ہے، لیکن موجودہ حالات میں مکان کے حصول کے خواہشمندوں کے لیے مالی منصوبہ بندی کرنا مزید کٹھن ہو گیا ہے۔