LIVE
Loading Breaking News...

یمنی افواج کی بڑی کامیابی، باب المندب سے حوثی باغی پسپا

News Image
یمنی سرکاری افواج نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل باب المندب آب و ہینا اور بندرگاہی شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس کارروائی سے بحیرہ احمر کے راستے بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
یمنی سرکاری افواج نے ایک بڑی فوجی پیش قدمی کے دوران حوثی باغیوں کو اہم اسٹریٹجک مقام باب المندب آب و ہینا اور اس کے قریب واقع ساحلی شہر مخا سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یمنی عسکری حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے بحیرہ احمر کے اس اہم ترین آبی راستے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ اس کامیابی کو یمنی تنازعے میں حکومت کے لیے ایک اہم عسکری موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق باب المندب آب و ہینا بین الاقوامی سمندری تجارت کے لیے دنیا کے مصروف ترین اور انتہائی حساس ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور دیگر تجارتی سامان لے جانے والے بحری جہاز گزرتے ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے اس علاقے پر قبضے کی کوششوں سے عالمی تجارت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے جنہیں اب یمنی سرکاری افواج نے سعودی اتحاد کی فضائی مدد سے ناکام بنا دیا ہے۔ دوسری جانب اس عسکری پیش قدمی کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ ریاض اور صنعا دونوں طرف سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے حوثی باغیوں کے خلاف اپنی فضائی مہم کو مزید تیز کر دیا ہے تاکہ باغیوں کو دوبارہ اسٹریٹجک مقامات پر قبضہ کرنے سے روکا جا سکے۔ یمنی فوج کے ترجمان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک کے تمام حصوں بالخصوص ساحلی پٹی کو حوثیوں سے مکمل طور پر پاک کر دیا جائے گا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مخا شہر اور باب المندب کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے سے یمنی حکومت کو سمندری راستوں پر اپنی دھونس جمانے اور باغیوں کی سپلائی لائنوں کو کاٹنے میں زبردست مدد ملے گی۔ تاہم اس تنازعے کے طویل المدتی اثرات خطے کے امن اور انسانی صورتحال پر بدستور اثر انداز ہو رہے ہیں جہاں عام شہریوں کو جنگ کے شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سیاسی حل کی طرف بڑھنے کی اپیل کی ہے۔