Technology
ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا انسانی سوچ پر اثر
یونیورسٹی کے نصاب میں مصنوعی ذہانت (AI) کی پالیسی شامل کرنے کے نئے احکامات سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار انسانی فکری صلاحیتوں کو کمزور کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں تعلیمی اداروں اور تکنیکی حلقوں میں ایک اہم بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ آیا ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) انسانی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو زنگ لگا رہی ہے۔ اس بات کا اندازہ اس وقت ہوا جب ایک یونیورسٹی نے اپنے سیل بائیولوجی کے کورس کے نصاب کو حتمی شکل دیتے ہوئے تمام اساتذہ کے لیے ایک لازمی میمو جاری کیا۔ اس میمو کے مطابق اب ہر نصاب میں باضابطہ طور پر ایک مصنوعی ذہانت (AI) کی پالیسی شامل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی غماز ہے کہ تعلیمی میدان میں بھی ٹیکنالوجی اب صرف ایک معاون یا ٹول نہیں رہی بلکہ یہ نصاب اور تدریسی طریقوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
ماہرین تعلیم اور سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ جب طلباء اور عام لوگ ہر چھوٹے بڑے مسئلے کے حل کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل آلات کا سہارا لیتے ہیں، تو ان کی اپنی تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتیں زوال پذیر ہونے لگتی ہیں۔ ماضی میں طلباء مسائل کو حل کرنے کے لیے خود کتابیں کھنگالتے تھے، اپنے دماغ پر زور دیتے تھے اور مختلف زاویوں سے سوچتے تھے۔ اس عمل سے نہ صرف ان کی ذہنی نشوونما ہوتی تھی بلکہ وہ پیچیدہ حالات میں فیصلے کرنے کے بھی قابل بنتے تھے۔ اس کے برعکس، آج کے دور میں فوری نتائج حاصل کرنے کی دوڑ نے انسان کو ذہنی طور پر سست بنا دیا ہے۔
دوسری جانب، یونیورسٹیوں اور تعلیمی بورڈز کی طرف سے یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ جدید دور کی ضرورت ہے۔ طلباء کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ AI کو کس حد تک اور کیسے استعمال کیا جائے تاکہ ان کی اپنی فکری صلاحیتیں متاثر نہ ہوں۔ پالیسی بنانے والوں کا مقصد یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں ایک ایسا توازن قائم کیا جائے جہاں ٹیکنالوجی سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکے اور طلباء کی ذہنی صلاحیتوں کو بھی زنگ نہ لگے۔
بہر حال، یہ سوال اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا ہم سہولت کی خاطر اپنی فکری آزادی کا سودا کر رہے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ تعلیمی ادارے اس چیلنج سے کیسے نمٹتے ہیں اور کیا وہ طلباء کو اس قابل بنا پاتے ہیں کہ وہ ٹیکنالوجی کے غلام بننے کے بجائے اس کے مالک بن کر رہیں۔